کہ آج دل بہت اُداس ہے

سنو، تم تو کوئی بات کرو، کوئی تو موضوعِ گفتگو بدلو
تم ہی کوئی چارہ کرو کہ آج دل بہت اداس ہے

سنو مانا کہ اب ساتھ نہیں ہیں مگر فقط مری جاں
آج میرے ساتھ رہو کہ آج دل بہت اداس ہے

مجھے کچھ نہیں سننا ہے مجھے کچھ نہیں کہنا ہے جاناں
مجھے اپنی بانہوں میں بھر لو کہ آج دل بہت اداس ہے

سنو میرے دل کی بات سنو مجھے اپنے سینے پہ سونے دو
مجھ کو اپنے لمس میں گھولو کہ آج دل بہت اداس ہے

← back