اے میری ماں
دن بھر کے بعد جب میں گھر کو لوٹوں گا
تجھے دروازے پہ منتظر میں پاؤں گا
تجھ سے میں دن بھر کے سب غم کہہ جاؤں گا
تجھ کو آفس کے سب قصے میں سناؤں گا
کس نے کیسے بولا اور کیا بولا مجھ کو
میں کسی بچے کی مانند، تجھ سے شکایت لگاؤں گا
میرے حالات جتنے بھی مشکل اور کٹھن ہو جائیں گے
میں تیری آغوش میں ہی ہمیشہ چین پاؤں گا
میں جتنا بھی بڑا ہو جاؤں گا دنیا کی نظر میں
اے میری ماں، میں ہمیشہ تیری اور ہی لوٹ کے آؤں گا