اندھیروں سے آشنائی

اب اندھیروں سے آشنائی کر لو میری جاں
کہ میرِ کارواں نے چراغوں سے دشمنی کر لی
غلامی کا طوق جیو، آزادی کا نام نہ لو اب
کہ نگہباں نے حقِ آزاداں سے دشمنی کر لی

← back