اپنے اندر بہنے والے خدا کے نام

اس درویش سے پوچھو تم
یہ کیوں دیوانہ سا پھرتا ہے
ہے جس کی تلاش اسکو یاں
وہ اس کے اندر ہی تو رہتا ہے
یہ جن باتوں کی کھوج میں ہے
وہ باتیں تو وہ خود ہی کہتا ہے
یہ جس کو ڈھونڈے ہے جنگل میں
وہ اس کے اپنے اندر ہی تو بہتا ہے

← back