بنجر ہو گئی احساس کی دھرتی

بنجر ہو گئی احساس کی دھرتی
یا ہم ہنر کھو بیٹھے ہیں کہیں
تیرا عشق برابر ہو چکا ہے
یا ہم منکر ہو بیٹھے ہیں کہیں
میرے اندر تو نہیں ہے اب موجود
ہم تیری جدائی رو بیٹھے ہیں کہیں
نہ عشق سلامت ہے، نہ مکانِ جنوں
ہم تجھ میں، خود سے، روٹھ بیٹھے ہیں کہیں

← back