داستانِ حیات

جاناں سنو داستانِ حیات سنائیں گے ہم
ہم بھی تمہارے تھے وفا کے، بتائیں گے ہم

وہ پہلی جوانی کی محبت ہماری
دونوں جہانوں کی تمنا، دکھائیں گے ہم

وہ اس کے خط، وہ فراق کے ٹکڑے
وہ ہماری عنانیں، کہاں پائیں گے ہم

وہ پہلی ملاقات کا حساب اس سے
کیا پھر کبھی جی سکیں گے ہم

وہ اس سے ملنے کا واقعہ جنت سا تھا
میں نے سوچا نہ ختم ہوگا، کہیں گے ہم

دنیا میں کچھ لوگ تھے جو اس سے محبت کرتے تھے
میں نے سوچا اب سب چاہیں گے، جائیں گے ہم

← back