داستانِ عشقِ کرب و بلا — ۱

نانا ﷺ آپ کا دین بچاؤں گا میں
مولا علیؑ کے نورِ عین بولے
جب دینِ اسلام کی بات ہوئی
بی بی زہراؑ کے دل کے چین بولے
دکھوں دردوں کو نفس کے سہہ لوں گا
سارے آ جائیں مل کے وہ بولے
تیرےﷺ نام کی شان بڑھاؤں گا
گلے لگ کے مولا حسینؑ بولے

ماتھا چوم کے پاک رسولﷺ بولے
کیسے اللہ کا دین بچائیں گے آپؑ
گھیر لینا ہے آپؑ کو یزیدیوں نے
کیسے مشکل وہ وقت نبھائیں گے آپؑ
لاکھوں فوجوں کے سامنے بیبیوںؑ کو
میرے بچے کیسے لے جائیں گے آپؑ
تریسٹھ سالوں کی عمر میں بتلائیں مجھے
کیسے بیٹوںؑ کے لاشے اٹھائیں گے آپؑ

میں عاشق ہوں اپنے اللہ کا
میں اعلیٰ صبر دکھاؤں گا
بے شک جتنے بھی ہوں ظلم ناناﷺ
لا الٰہ کا مان بڑھاؤں گا
پانچ وقت کی نماز بچانے کی خاطر
سر سجدے میں کٹاؤں گا
رکھ کے میں لاج تلاوتوں کی
نیزے پہ قرآن سناؤں گا

پاس عشق کھڑا تھا اُس وقت
کہنے لگا یہ بات آسان نہیں
جو عشق کی آنکھ میں آنکھ ڈالے
ایسا دیکھا کوئی جوان نہیں
حضرت آدمؑ سے لے کے آج تک
ایسا دیکھا کوئی انسان نہیں
سوا لاکھ نبیوںؑ کے ہیں دور گزرے
پڑھا نیزے پہ کسی نے قرآن نہیں

بولے مولا حسینؑ، تم جانتے نہیں
میرے ساتھ تم بازو لڑا کے دیکھو
ثابت قدم رہوں گا، رب کی قسم
جتنا لگتا ہے زور تم لگا کے دیکھو
بیٹا علیؑ کا تم سے نہیں ہے ہار سکتا
حد ظلم کی اے عشق! بڑھا کے دیکھو
آزمائے ہیں نبیؐ، ولی، اے عشق!
ذرا مجھؑ کو بھی تم، آزما کے دیکھو

کہا عشق نے سن حسینؑ ذرا
تمہارے صبر کو میں آزماؤں گا
ساٹھ ہجری کو رجب کے مہینے میں
روضہ نانا رسولؐ کا تم سے چھڑواؤں گا
مکہ شہر میں تم کو نہ رہنے دوں گا
احرام تمہارے کھلواؤں گا
خانہ کعبہ سے نکال کے سن ذرا
تمہیں کرب و بلا میں لے جاؤں گا

مولا حسینؑ عشق کو کہنے لگے

دینِ رب کا ہوا اگر خطرے میں
روضہ نانا رسولؐ کا چھوڑ دوں گا
تالے لگا کے جالی حویلیوں کو
ناطہ سفروں کے ساتھ جوڑ دوں گا
توحیدِ خدا کی بچ جائے
احرام بھی اپنا کھول دوں گا
کربل میں گر ہے موت لکھی
منہ موت کی طرف میں موڑ دوں گا

کہا عشق نے، گرم ریتوں پہ
گر میں نہ تڑپاؤں تو عشق ہی نہیں
برچھی اکبرؑ جوان کے سینے میں
گر میں نہ تڑواؤں تو عشق ہی نہیں
مہندی مولا حسنؑ کے بیٹے کی
گر میں نہ رول پاؤں تو عشق ہی نہیں
تم سے لاڈلے بیٹوں کے لاشے
گر میں نہ اٹھواؤں تو عشق ہی نہیں

مولا حسینؑ عشق کو کہنے لگے

سارے نبیؑ یہ مل کے دیکھیں گے
حدِ صبر کی جب دکھاؤں گا میںؑ
علی اکبرؑ کے سینے سے دیکھنا
پھل برچھی کا نکال کے دکھاؤں گا میںؑ
پٹی اپنی آنکھوں پہ باندھنی نہیں
لاشہ بیٹے جوان کا اٹھاؤں گا میںؑ
جو وعدہ نانا خلیلؑ نے کیا تھا
وعدہ کربل میں وہ نبھاؤں گا میںؑ

← back