داستانِ عشقِ کرب و بلا — ۲
کھڑا عشق نظارہ یہ دیکھتا تھا
کچھ بول، بتولؑ کا لال بولے
مجھےؑ اور آزمانا ہے تو بتلاؤ اے عشق
مولاؑ کر کے عشق سے سوال بولے
چور زخموں سے سجدے کی حالت میں
میرا پیارا نخی لجپالؑ بولے
ہم دین سے جانیں اگر واریں نہیں
ہمیں کون؟ محمدﷺ کی آلؑ بولے
عشق کہے، کہ میرے ہیں ہاتھ کھڑے
آپؑ کے صبر کو دیکھ کے میں بھی رویا
آپؑ جیت گئے، اور میں ہار گیا
بیج دین کا آپؑ نے ہے خوب بویا
غازیؑ وارا اور اصغرؑ بھی وار دیا
علی اکبرؑ جیسا بھی ہے جوان کھویا
کوئی عاشق اور صابر جہان کے اندر
آپؑ کے جیسا نہ مولا حسینؑ ہویا
تکریمِ جہاں تو فانی ہے
مولا پاکؑ کے دکھوں میں آنکھ بھریں
سدا رہنا نہیں دولت، جاگیروں نے
سیدھی جنت کو جانے والی راہ پکڑیں
فانی چیزیں ہیں سب جہان کی یہ
اِن کے لیے اپنا آپ نہ کبھی بے چین کریں
اللہ نبیؐ کو راضی گر کرنا ہے
سدا یاد جذبہِ قربانیِ حسینؑ کریں
یہ قوال شیر میانداد خان فریدی کی پڑھی گئی پنجابی قوالی کا منظوم ترجمہ ہے۔