داستانِ عشقِ کرب و بلا — علمدارؑ
علم بردارؑ کے بی بی سکینہؑ نے
کندھے آ کے مشک پہنا دی
کہنے لگیں پانی لے آؤ چچا
اس گرمی نے ہے پیاس بڑھا دی
ہونٹ سوکھ گئے ہیں بچوں کے
حالت پیاس نے ہے ہماری تباہ کر دی
کہیں اصغرؑ پیاسا ہی نہ مر جائے
رو کے بی بیؑ نے ہے التجا کر دی
پانی لینے فرات کی نہر پر
بی بی زینبؑ کلثومؑ کے ہمشیر آئے
فوجیں بڑھیں راستے روکنے کے لیے
غازیؑ ان کی صفوں کو چیر آئے
روکے غازیؑ نے اپنے سینے پر
بھری مشک کی طرف جو تیر آئے
حالت دیکھ کے غازیؑ کی جنگ والی
میرے مولاؑ کی آنکھوں سے نیر آئے
ایک تیر نے مشک کو پھاڑ دیا
ہوش اپنا غازیؑ کو بھول گیا
کوفے شام کی فوجوں کو مارنے کے لیے
پسرِ علیؑ امامؑ کا ٹل گیا
بازوؤں کاٹیں ظالموں نے غازیؑ کی
سر گرد و گردوں میں گھل گیا
پانی کے ساتھ زمیں پہ کیا بتلاؤں
خونِ غازیؑ عباسؑ کا ریت میں گھل گیا