داستانِ عشقِ کرب و بلا — اصغرؑ
کرو بیعت یزید کی لو پانی
کہے ہنس کہ شمر کمینہ ہے
ہم نے اس کو بھی ہے مار دینا
تمہاری بازوؤں میں جو گگینہ ہے
تمہاریؑ گردن پہ خنجر چلانا ہے
بس تھوڑی ہی دیر تم نے جینا ہے
اصغرؑ کا تو فقط بہانہ ہے
پانی خود حسینؑ نے پینا ہے
دیا حکمِ لعین نے فوجیوں کو
انہیںؑ بیچ میدان، رلا دو
چھ مہینے کے بیٹے کی سانسیں
اِسؑ کی بانہوں میں مٹا دو
ماںؑ اصغرؑ کے خیمے میں رو پڑے
حدِ ظلموں کی اتنی بڑھا دو
تین نوکوں کا تیر چلا دو
تم اصغرؑ کی پیاس بجھا دو
ایک ظالم نے اصغرؑ کی گردن پہ
بھاری تیر کے ساتھ وار کیا
چھوٹے سے گلے سے تین نوکوں والا
وہ تیر تھا آر پار کیا
اللہ پاک سے کلامِ حسینؑ مولاؑ
یاروں ہو کے ہے اشکبار کیا
دیکھ رب، میرے ناناﷺ کی امت نے
میرے بیٹےؑ کے ساتھ ہے پیار کیا
بی بی زینبؑ نے رو کے ہے فرمایا
قربان ہوں میں آپؑ کی وفاؤں پر
برادرؑ کاٹیں جو ہیں ظالم نے
قربان ہوں میں ان بازوؤں پر
کر دوں میں نثار دونوں جہانوں کو
تمہارے غازیؑ علمؑ کی چھاؤں پر
جیسے دی ہے جان آپؑ نے اے برادرؑ
کوئی دیتا نہیں جان بھائیوں پر
علی اصغرؑ کو ہاتھوں پہ اٹھائے مولاؑ
لوگوں کربل کے اس میدان آئے
جھولے والےؑ کو کتنی ہے پیاس لگی
ساری فوجوں کو منظر دکھانے آئے
آنکھیں حوریں اور ملائک نے بھر لیں
جس وقت وہ بے زباں آئے
علی اصغرؑ میدان میں یوں آئے
جیسے رحل میں لپٹے قرآن آئے
بولے مولا حسینؑ یزیدیوں نے
اصغرؑ بے زباں کو دو پانی
گھونٹ پانی کا ایک ہی کافی ہے
اسؑ چھوٹی سی جان کو دو پانی
میری بیٹیؑ سکینہؑ کا بھائی ہے یہ
میری بیٹیؑ کے مان کو دو پانی
یہ تو امامؑ کو مار نہیں سکتا
اسےؑ تھوڑا پلانے کو دو پانی