داستانِ عشقِ کرب و بلا — عصر کا وقت

فوجوں نے سن کے بات عمل کیا، مل کے حملہ امامؑ پہ کر دیا
کربل والے میدان کے بیچ لوگوں، دکھ مولا حسینؑ کو ہر دیا
اتنے تیر چلائے حسینؑ پر، تیروں سے وجود کو بھر دیا
مولاؑ نے مانگا تھا صبر رب سے، اللہ پاک نے خوب صبر دیا

اللہ پاک کو مولا حسینؑ نے کہا، آج کر کے میںؑ صبر دکھا دوں گا
امتحان گر کوئی ہے بچ گیا، مجھےؑ بتلائیں، میںؑ وہ بھی نبھا دوں گا
ضائع جائے نہ بھی ارادہ ہے، صبروں کو میںؑ یہ یاد کرا دوں گا
تمہارا حکم ہوا تو یا اللہ، میںؑ سر بھی آج کٹا دوں گا

ہوا عصر کا وقت، سنو یارو، مولا پاکؑ نماز پڑھنے لگے
بیٹے، بھائی ذبح کر کے سب یارو، سجدہ رب عظیم کو کرنے لگے
اوپر سے شمر کمینہ بھی آ گیا، تاکہ بیچ نماز خنجر گردن پہ چلنے لگے
نبیؐ عرشوں سے رو کے دیکھتے تھے، بیڑے دینِ خدا کے ہیں ترنے لگے

← back