داستانِ عشقِ کرب و بلا — کربلا کی خرید
کہا عشق نے، یہ تو کچھ بھی نہیں، مشکل وقت تو بعد میں آنا ہے
جو چادر ہے پاک بتولؑ والی، اس کو نیزے کے ساتھ اتارنا ہے
خیمے جلا کے سارے بیبیوںؑ کے، قیدی ان کو بھی کروانا ہے
رسی ڈال کے سکینہؑ کی گردن میں، طرفِ شام انہیں لے جانا ہے
بولے مولا شبیرؑ، تیرے امتحان کے لیے تیار ہوں میں
وقت آ گیا وعدہ نبھانے والا، بیچ کربل کے مولا شبیرؑ آئے
کئی بیٹے، بھتیجوںؑ اور بیبیوںؑ کو، لے کے دین کی کرنے تعمیر آئے
نو لاکھ سپاہی حسینؑ کے آگے، لے کے برچھیاں، نیزے اور تیر آئے
عرش والے بھی دیکھ کے رونے لگے، جب بیچ میداں دونوں جہانوں کے پیرؑ آئے
ساٹھ ہزار دینار کے بدلے میں، مولاؑ نے کرب و بلا خرید لی
بنی اسد قبیلے کے لوگوں سے، اپنے قتل کی جگہ خرید لی
لگائی اکبرؑ جواں کے نام ساری، جو جو بھی جگہ خرید لی
سبحان اللہ، سبحان اللہ، ساری خاکِ شفا خرید لی