داستانِ عشقِ کرب و بلا — لاشِ قاسمؑ
لاشِ قاسمؑ کی مولاؑ اٹھانے کو
سیدؑ بچ میدان کے آتے ہیں
ٹکڑے بھائی حسنؑ کے لاڈلے کے
ڈھونڈ ڈھونڈ کے مولاؑ لاتے ہیں
اپنی چادر بچھا کے ریت اوپر
ہر ٹکڑے کو چادر میں ڈالتے ہیں
کتنا حوصلہ مولا حسینؑ کا ہے
اکیلے لاش بھتیجےؑ کی اٹھاتے ہیں
علی اکبرؑ گئے میداں کے بیچ
حدِ ظلم کی لوگوں نے مٹا دی
برچھی جگر میں مار کے، ظالموں نے
صورتِ نبیؐ کی خاک میں ملا دی
کمرِ مولا حسینؑ کی ٹوٹ گئی
جب اکبرؑ نے لوگوں صدا دی
علی اکبرؑ کے سینے سے برچھی بھی
نکال کے مولا حسینؑ نے دکھا دی
نواسۂ رسولؐ کی شہادت کی حکایت بیان کرنے کی اک ناکام کوشش۔ یہ طویل نظم پنجابی میں پڑھے گئے اک کلام کا منظوم ترجمہ ہے۔
— ڈی اے