داستانِ عشقِ کرب و بلا — شہادتیں
نو لاکھ سپاہیوں کے گھیرے میں
بھوکا پیاسا نواسۂ رسولؐ کا تھا
علیؑ مولا کے دل کی دھڑکن تھی
لال وہ بی بی بتولؑ کا تھا
اللہ پاک کا دین بچانے کے لیے
عدو وہ بیعتِ باطل کا تھا
نبیؐ عرش سے منظر یہ دیکھتے رہے
کلمہ بولتا یاروں رسولؐ کا تھا
بات سچ ہے، یزید کے فوجیوں نے
میرے مولاؑ کے سب انصارؓ مارے
گھیر گھیر کے شامیوں کو فوجیوں نے
ساتھ بیٹوں کے بار بار مارے
حضرت جونؓ، حبیبؓ، زوہیرؓ جیسے
کیسے کیسے اعلیٰ شہ سوار مارے
باری حسینؑ بیڑے کی آ گئی
جب گئے حسینؑ کے یارؓ مارے
حضرت قاسمؑ کا لو گو میں حال بتلاؤں
قربانی انہوں نے ہے انمول دی
ایک ہی رات ہوئی تھی شادی کو
خوشی، غمی میں ان کی گھول دی
بی بی فروہؑ کے پاک سہارے کی
ہائے پاک جوانی بھی رول دی
کر کے ٹکڑے ٹکڑے لاشے کو
مہندی ریت گرم میں گھول دی
نواسۂ رسولؐ کی شہادت کی حکایت بیان کرنے کی اک ناکام کوشش۔ یہ طویل نظم پنجابی میں پڑھے گئے اک کلام کا منظوم ترجمہ ہے۔ اس کے مزید بند جلد پیش ہوں گے۔
—ڈی اے