دسمبر جب بھی آتا ہے

دسمبر جب بھی آتا ہے
اداسی ساتھ لاتا ہے
کسی لمس کے قرب کی حدت
کسی بے وفا کی یاد دلاتا ہے
ہجر کے سبھی گہرے گھاؤ
یہ پھر سے جلاتا ہے
وصل کی مردہ آرزو کو
نئی راہِ زندگی دکھاتا ہے
دل میں قرب کی پھر سے
اک بے ضرر چنگاری جلاتا ہے
ملن کی آس میں
نئے رشتے بناتا ہے
کسی کے ساتھ کی خاطر انجان
راہوں پہ تنہا لے جاتا ہے
غمِ عشق کے ماروں کو
اپنی انگلیوں پہ نچاتا ہے
محبت کے اسیروں پہ
عجب قیامت یہ ڈھاتا ہے
دسمبر جب بھی آتا ہے
اداسی ساتھ لاتا ہے

← back