دل لگانے کو

تم نے چاہا ہی نہیں مجھے اپنا بنانے کو
تم تو چاہتے ہو سب کو فقط دل لگانے کو
پھر یہ کہتے ہو کہ غم نہ کر جانِ جاں
یہ تو قصے ہیں فقط تمہیں ورغلانے کو
ہم بھی ہیں تیری چاہتوں کے اسیر جاناں
مان جاتے ہیں تیرے سب گُر، دل بہلانے کو
سنو، سُنا ہے میں نے کسی اور سے بھی ہیں مراسم
کہہ دو کہ یہ ہیں افواہیں صرف میرا دل جلانے کو
سنو تم نہیں ہو سکتے میسر مجھے تو کوئی بات نہیں
رقیب کو یوں نہ یاد کرو، میرے ہمنوا ستانے کو

← back