گواہی دے گی زمین
یہ زمیں جو لہو سے تر ہے،
یہ فضا جو کراہوں سے بھری ہے،
یہ رات جو صدیوں سے ساکت ہے،
یہ زنجیریں جو صدیوں سے بجتی ہیں—
سب گواہی دیں گی، سب گواہی دیں گی:
کہ یہ ظلم باقی نہیں رہتا۔
وہ عدالتیں جو سنسان کھڑی ہیں،
وہ ترازو جو بوجھ سے جھکے ہیں،
وہ زباں جو خوف سے بند ہے،
وہ قلم جو طاقت پہ جھک گیا—
سب شکستہ ہوں گے، سب بکھر جائیں گے:
کہ یہ راج باقی نہیں رہتا۔
مرے کوچے لہو کی خوشبو سے لبریز ہیں،
مرے خواب جوان آنکھوں میں بکھر گئے،
مری ماؤں کی دعائیں دھوئیں میں گھل گئیں،
مرے مزدور کے ہاتھ خالی، مرے کسان کی فصل سوکھی—
مگر یہ سب بھی گواہی دیں گے:
کہ یہ کھیل باقی نہیں رہتا۔
اندھیروں کی عمر کتنی ہے؟
چراغ کب بجھایا گیا؟
سحر کو کب روکا گیا؟
صدا کو کب دبایا گیا؟
ہر زنجیر پگھلنے کو ہے،
ہر قفس بکھرنے کو ہے،
ہر دل کی روشنی ابھرنے کو ہے۔
اور جب صبح کی پہلی کرن کھلے گی،
جب سورج انہی گلیوں سے نکلے گا،
جب ہاتھ اٹھیں گے بندھن توڑنے کو،
جب آنکھیں جاگیں خواب بننے کو—
تب زمین گائے گی، تب ہوا کہے گی، تب صدا گونجے گی:
کہ ظلم ہارا ہے،
اور انسان جیتا ہے۔