گھاؤ لگانے والوں کے نام

ہائے میں تمہیں اس کی بے وفائی کے کیا کیا قصے سناؤں
کلیجہ رکھ دیتا ہوں نکال کر، تم خود ہی گن لو سب گھاؤ

وہ میرا دعویٰ محبت میں اُس پہ مرجانے کا قصہِ عام
اور اُس کا یہ اصرار کہ جاناں اب تم مجھے مر کے دکھاؤ

← back