گُم ہو گئے

دوست، میں نے بس اک آواز پہ لوٹ آنا تھا
مگر گُم ہو گئے اُس سے الفاظ بلانے والے

ہم نے ملنا تھا زندگی کے اُس موڑ پہ جاناں
مگر گُم ہو گئے اُس سے نقشے ملانے والے

مہر لگ گئی شہرِ ذات پہ کہ ہرجائی ہیں ہم
مگر گُم ہو گئے اُس سے سب عہد و وفا بتانے والے

← back