حسرتوں کے نام

حسرت ہی رہی دل میں اے مری جاں
کہ میں دنیا کو دیکھوں تیری نگاہ سے
تو مجھ کو دیکھ کسی یار کی مانند
اور تو دیکھ خود کو میری نگاہ سے
جاناں یہ آنکھوں کے یارو سودائی ہیں
یہ مکافاتِ نینہ و بینا ہے میری جاں کہ
جو آنکھ نے دیکھا ہے وہی دل نے چاہا

← back