انتظار نہ کر

سن اے انساں ، لہروں کے رکنے کا انتظار نہ کر
خود ہی کر تو کوشش اب ، مسیحا کا انتظار نہ کر
تُو ڈوب رہا ہے جاناں ، دل ڈوب رہا ہے میرا
سب نے ہی جانا ہے ، اس شدت سے انتظار نہ کر

← back