عشق میں سوال کرنے والوں کے نام

ہم نے فقط اعتبار مانگا تھا تم سے
تم نے تو سرِ راہ سوال پوچھ لیا

میں ہی ہوں تیری محبت کا اسیر
کہ تجھ پہ پھر سے یقین کر لیا

بے وفائی نہیں ہے طریق میرا
ورنہ میں نے عشق کئی بار کر لیا

← back