جانِ جاں
سحرانگیز تیری آنکھیں
مسحورکن تیرا لہجہ
طلسمِ ہوشربا تیرا چہرہ
نسیمِ بادِ صبح تیری خوشبو
خدا نے تجھ کو بنایا تھا
یا امتحانِ ایماں بنایا تھا
وہ بن خواب کے نیم وا آنکھیں
وہ سرور سے بھرپور باتیں
وہ لب کہ لبِ شیریں
وہ اندازِ اسرارِ جانِ ادا
وہ مانندِ کمند آنکھوں کی چمک
وہ تیرے مترنم شعر
جانِ جاں تم ہو جانِ جہاں
کہ تم کو بنایا گیا آزمانے لیے
تم کو خدا نے بنایا ہے جاناں
ہم جیسے بے ایمانوں کو منانے لیے
تیرے سحر میں ہیں ہم کھوئے ہوئے
کہ تو جا چکا کہیں اور جادو جگانے لیے
سُن جانِ جاں، اس سے پہلے کہ
تُو جانِ جہاں ہو جا، کچھ ایسا کر خفا ہو جا