جہاں میں فقط وہ سہانا لگتا ہے
جہاں میں فقط وہ سہانا لگتا ہے
اور وہی آنکھ کا تارا ہوتا ہے
وہ اطلس و کمخواب سے بڑھ کے
وہ زمیں پہ خدا کا استعارہ ہوتا ہے
پھر عمر بڑھنے لگتی ہے اور محبت گھٹنے
پھر یار کے آنے سے سویرا نہیں ہوتا
پھر فرقت سے حیات میں اندھیرا نہیں ہوتا
وہ جو یومِ محبت ہوتے تھے وعدے
اُن وعدوں کا اب کوئی کنارہ نہیں ہوتا