جاناں داستاں سنو گے

جاناں داستاں سنو گے تو سنائیں گے ہم
تم کو بھی قصے وفا کے بتائیں گے ہم
وہ الہڑ عمر کی پہلی پہلی محبت کہ
تھا شوقِ دونوں جہاں، دکھائیں گے ہم
وہ اس کے خط، وہ کچھ ہجر کے رقعے
وہ مہرِ بے مہار، کہہ بھی پائیں گے ہم
وہ اس سے پہلی ملاقات کی روداد
کیا کبھی پھر سے جی پائیں گے ہم
وہ اُس سے ملن کا واقعہ تھا یا جنت
مجھ کو لگتا تھا مر نہ جائیں گے ہم
کچھ دہر میں تھے اُس کے چاہنے والے
سب کو لگتا تھا اب چاہے جائیں گے ہم

← back