جشنِ ظہورِ حسین

مؤرخ لکھ رہا تھا داستانِ قربانیِ بے مثل…
لکھا اُس نے حُسین، اور قلم توڑ ڈالا…
کرب و بلا کا واقعہ کھلی حقیقت ہے…
حق کے ہر مجاہد کو، تاریخ نے امر کر ڈالا…
عہدِ وفا کی بے نظیر مثال…
مانگا پانی سکینہؑ نے، رخ طرفِ فرات، عباسؑ نے موڑ ڈالا…
کربلا ہے نہجِ اقرارِ حق…
کہ اِس نے باطل کی سبھی روایتوں کو توڑ ڈالا…
حُسینؑ عالَم کے لیے، حُسینیت عالَم کے لیے
یہی ہیں وہ، جس نے بنی نوعِ انساں کو جوڑ ڈالا…
غمِ حُسینؑ فقط گریہ زاری ہی نہیں…
جس نے جوڑا ربط وہاں، اُس نے بتانِ دنیا کو توڑ ڈالا…
ڈی اے

← back