کب ملتا کسی سے تھا

کب ملتا کسی سے تھا
ہم سے ہی تھی ملاقاتیں

رنگ اُس کا شبابی تھا
زلفوں میں تھی مہکاریں

آنکھیں تھی کہ جادو تھا
پلکیں تھی کہ تلواریں

دشمن بھی اگر دیکھیں
سو جان سے دل ہاریں

کچھ تم سے بھی وہ ملتا تھا
باتوں میں شباہت تھی

← back