کوئی ملا ہے
کوئی ملا ہے —
کوئی ملا ہے مجھ کو ایسے
صحرا میں ملتی ہے چھاؤں جیسے —
بنجر زمین ہے، پتجھڑ سماں
ایسے میں آئی ہو بہار جیسے —
سمندر کنارے، ویران بستی
پھر سے ہو گئی شاداں جیسے —
گہرائی پاتال کے گھپ اندھیرے
ان میں مل گیا ہو چراغاں جیسے —
قصہ مختصر، ملن ہوا ہے، یوں
جوگی کو مل گیا ہو خدا جیسے —
—ڈی اے