لفظ قصداً امانت کر لیتے ہیں

poetryUrdu#instagram#stories

لفظ قصداً امانت کر لیتے ہیں
دل جدائی کے زہر سے بھر لیتے ہیں
تجھے ہجر ضروری ہے، مجھے وصل لازم
ہم تیری آرزو پہ سر خم کر لیتے ہیں
عاشق ہیں، دیوانے ہیں، پروانے ہیں
تیری خاطر شمع سے دشمنی کر لیتے ہیں
پیار، محبت، عشق، جنوں، سب کر بیٹھے ہیں
تو کہتی ہے تو پھر آغازِ وفا کر لیتے ہیں
دل کی بات نہ سن رے پگلے، کہ عبث کہتا ہے
وہ جو چاہتے ہیں دوستی، تو کر لیتے ہیں
—ڈی اے

← back