لفظوں کے قحط کے نام
لگتا ہے میں کسی مدار میں کھو گیا ہوں
میری کوئی راہ تیرے عتبے سے آگے نہیں جاتی
میں کسی مدار میں قید ہوں، کہ تیرے طواف میں ہوں
یہ کیا ہے کہ تیرے ہونے سے آگے نہیں دیکھ سکتا
کیا قحط ہے یہ، کہ دل میں بہت کچھ لکھنے کو ہے
مگر میرا قلم تیری دیواروں سے آگے نہیں جاتا