لوٹ آؤ
سنو بہت اُداس ہوں میں یہاں ، لوٹ آؤ
پل بھر کو ہی سہی مری جاں لوٹ آؤ
سنو میرا تمہارے بنا دل نہیں لگتا اب
چھوڑو دو یہ ضد میری جاں ، لوٹ آؤ
ہاں میں ہی غلط تھا کہ تجھے جانے دیا
تُم تو عقلمند ہو نا میری جاں ، لوٹ آؤ
چلو نہیں کرتے عشق کے قول و قرار ہم
جاناں ، کچھ لمحوں کے لیے ہی لوٹ آؤ