میں ہوں خواب گر اور خیال ہے جرم یہاں

میرے ہم نوا،
تُو کر اب،
سر تَن سے جدا
کہ میں ہوں خواب گَر
اور خیال ہے جرم یہاں
مجھے نہیں ہے فکر،
جانِ جاں کی اب یہاں

کہ میں خیال ہوں،
نہیں جہاں کا کوئی انساں
مجھے تراش دے
کسی رستے پہ مستقل
کہ میں رہوں یا نہ رہوں،
میرا اجرم رہے عیاں

← back