منزلوں کا نہیں ہوں میں
میں نے چھوڑے ہیں اپنے سبھی گھر، لیکن اُن گھروں کا نہیں ہوں میں
میرے کاغذ بتاتے ہیں دو دیس ہیں، لیکن نگر اُن کا نہیں ہوں میں
میں تھا صحرا، میں پیاس کی مٹی، لیکن دریا سے اجنبی ٹھہرا
میں ہوا کا اسیر ذرہ ہوں، لیکن لہروں کا نہیں ہوں میں
میری آنکھوں کے سب مناظر بکھر گئے اجنبی گلیوں میں
میں نے خوابوں کو دفن کر ڈالا، لیکن سپنوں کا نہیں ہوں میں
میں خدا کے ذرے کی صورت ہوں، کہ ہوں بھی اور نہ ہوں بھی میں
میں وجود و عدم کے بیچ کھڑا، لیکن کسی لمحے کا نہیں ہوں میں
میں مسافر ہوں اور یہی تقدیر، کہ سفر ہی سفر میرا مقدر ہے
میں سفر کی لکھی ہوئی تحریر، مگر منزلوں کا نہیں ہوں میں
میں نے چہروں پہ کتنے چہرے سجائے، لیکن پہچان کھو گئی میری
میں تعلق خاص ڈھونڈ رہا، مگر رشتوں کا نہیں ہوں میں
میں تھا مٹی کا ایک ٹکڑا کبھی، میں تھا یادوں کا اک خزانہ کبھی
اب میں پردیس کی ہوا میں بکھر گیا ہوں، لیکن دھرتی نہیں ہوں میں