میرے اندر کے اندھیرے
میرے اندر کے اندھیرے جب چراغوں کو چاہتے ہیں
ہم یاروں کی محفل میں، غم اٹھائے آتے ہیں
غمِ گردشِ دوراں بھلانے کی خاطر، زیرِ آتش
ہم دل کے سبھی آرماں، دوستوں کو بتلاتے ہیں
وہ جو منزلیں ہیں وقتِ اوّل و آخر کی
ان منزلوں کو جانے انجانے میں، اپنا ہم بناتے ہیں
میرے اندر کی آتش میں موجود چنگاری کی خاطر
ہم ان کو عبث، سب افسانۂِ غمِ جاناں سناتے ہیں