میرے لفظ تیری امانت ہیں
میرے لفظ تیری امانت ہیں
کہ تو میرے دل کی بستی کی خوشحال ابتداء ہے
وہ تیرا کچھ لمحوں کو بات کرنا
میری زندگی کی سبھی خوشیوں سے بڑا ہے
یہ جو دو ہفتوں کی ہے گفتگو
یہ پچھلے آٹھ برسوں کی چاہت سے جدا ہے
ہم تمہیں یاد تو آئے، آئے بیشک غم میں
ان لمحوں کو فقط گزارنا، اک گناہ ہے
تو مجھ سے کہہ دیتی ہے دل کی سب باتیں
اور سننا میرا ان کو، عشق کی انتہا ہے
ترے لبوں سے ادا ہر لفظ مقدس ہے
کہ عشق ہے اک کہکشاںِ خودی، اور تو اسکی خدا ہے
—ڈی اے