مٹا دیا تم میں
میں نے خود کو مٹا دیا تم میں،
اپنی سانسوں کو سجا دیا تم میں۔
میری ہستی کا کوئی نام نہ تھا،
میں نے سب کچھ لٹا دیا تم میں۔
اب میں ذرّہ ہوں گردشِ افلاک،
اور اپنا مدار بنا لیا تم میں۔
میں تھا صحرا، میں پیاس کی مٹی،
تم ہو دریا، بہا دیا تم میں۔
اب نہ میں ہوں، نہ میرا وجود رہا،
میں نے سب کچھ گما دیا تم میں۔
میری آنکھوں کا خواب باقی نہ رہا،
ہر تصور بنا دیا تم میں۔
میں جو قطرہ تھا بحرِ امکاں میں،
ضم ہو کے دریا میں ملا دیا تم میں۔
میں تھا تاریک، راکھ سا بکھرا،
اک اجالا سا کھلا دیا تم میں۔
اب مری دھڑکنوں کی لے ہے فقط،
ہماری یاد کا ترنم سجا تم میں۔