محبت کون کرے

جاناں اب پھر سے محبت کون کرے
دل لگائے ، دنیا سے بغاوت کون کرے
جاناں ، پھر کون کرے خود کو عشق پہ مائل
غم چاہے ، پھر خوشی سے عداوت کون کرے

← back