مجھ سے بہت بیزار آچکے ہو تم
پہلے مجھ سے ہر راز بانٹتے تھے تم
اب کسی اور کو اپنا رازدار بنا لیا ہے تم نے
جیسا پہلے آتے تھے ویسے نہیں آتے
لگتا ہے دل کہیں اور لگا لیا ہے تم نے
یہ فرصت اب نہیں ملتی تمہیں
کس کام میں اس قدر کھو گئے ہو تم
یہ سلسلہ ربط کا ٹوٹ گیا ہے
لگتا ہے سلسلہ کہیں اور باندھ لیا ہے تم نے
عملی زندگی کے یہ غم معصومیت کے زمانے میں
سنو، کس فلسفہ حیات تک پہنچ گئے ہو تم
ان چند باتوں سے تمہاری مجھے سمجھ آ گئی ہے
اے محبوب، مجھ سے بہت بیزار آچکے ہو تم