مردہ معاشرے کے نام، اک آخری چیخ

ابھی تو رات باقی ہے، ابھی تو بات باقی ہے
ابھی تم عزت دار ہو، ابھی تو عزت باقی ہے
تمہارے گھر کی سب خواتین ابھی عزت دار ہیں
مگر یہ روشنی عارضی ہے، کہ ابھی تو رات باقی ہے
یہ جو آگ ہے یہاں اس میں تیرا گھر بھی آئے گا
تو یہ آگ فقط بے ربط پھونکوں سے نہ بجھا پائے گا
اب کہ ہے ارادہ تو اٹھ، کمر باندھ، کہ منزل دور ہے
ورنہ غافل، خونِ قلب سے بھی یہ عذاب نہ ٹالا جائے گا

—ڈی اے

← back