نواسۂ رسولؐ کی شہادت کی حکایت
جبرائیلؑ امین نے عرض ہے کہ
اللہ پاک کا آقاؐ ہے سلام آیا
مجھے قسم ہے آپؐ کی جوڑیوں کی
خاص لے کے میں آقاؐ پیغام آیا
بات بہت ضروری ہے سن لیں آپؐ
جو لے کے میں خیرالانعامؐ آیا
ہو جانا ہے شہید نواسوں نے
یہی بتلانے ہے آقاؐ ‘غلامؑ’ آیا
جبرائیلؑ امین کی بات سن کے
بہت نبیوں کے سردارؐ روئے
مولا علیؑ کے لاڈلے بیٹوں کو
کر کر کے بہت ہی پیار روئے
چوم چوم کے اپنے نواسوں کو
قسم رب کی زار و قطار روئے
ساتھ سارے صحابہؓ بھی رونے لگے
جس لمحہ میرے سرکارؐ روئے
نبی پاکؐ نے کہا، یا جبرائیلؑ!
ذرا کھل کے مجھے یہ حال تو بتلاؤ
کیسے ہوں گے شہید یہ لالؑ میرے
مجھے سب کا سب احوال تو بتلاؤ
میرے حسنؑ نے کیسے ہے شہید ہونا؟
کب ہونا ہے؟ مجھے وہ سال تو بتلاؤ
کہاں میرے حسینؑ نے ہے شہید ہونا؟
کس دھرتی پہ ہونا ہے، پامال تو بتلاؤ
جبرائیلؑ ہیں بولے، یا آقاؐ
اٹھائیس صفر اور سنہ پچاس ہو گا
مولا حسنؑ کو زہر انگوروں میں
ظالم لوگوں نے خود، دیا ہو گا
ہو کہ ٹکڑے ٹکڑے جگر شہزادےؑ کا
سارے صحن میں بکھر رہا ہو گا
بی بی پاک بتولؑ کا سرمایہ
ایسے آپؐ سے آقاؐ جدا ہو گا
بولے آقاؐ رسولؐ
کرب سے یہ
بتلاؤ مجھے، اے فرشتے رب کے
میرے دوسرے نورینؑ کی بات
میرے بھائی علیؑ کے لاڈلے کی
میری زہراؑ کے دل کے چین کی بات
میرے چھوٹے نواسے کی بتاؤ ذرا
دکھوں اور غموں کو سہنے کی بات
آنسو روک کے اپنے بتلاؤ مجھے
میرے لاڈلے بیٹے حسینؑ کی بات
جبرائیلؑ نے رو کے ہے جواب دیا
نہیں حسینؑ کا کوئی بھی قصور ہونا
آپؐ کے دین کی آن بچانے کیلئے
انہوں نے زخموں میں ہے چُور ہونا
تپتی ریت پہ پیاسا وہ کئی دن کا
آپؐ کی آنکھوں کا ہے وہ نور ہونا
اللہ پاک کی قسم ہے یا محبوبؐ
آپؐ کا روضہ بھی اُن سے ہے دُور ہونا
جو نبیؐ نے دین کو لگایا تھا
لوگوں وہ خراب نہ رنگ کرو
دوزخ میں لے جائے یزید تمہیں
اس کے ساتھ نہ اپنا سنگ کرو
نانا پاکؐ کے روضے پہ جانے دو
اور مجھے نہ شامیوں تنگ کرو
گر چھوڑنا نہیں ہے یزید تم نے
پھر آؤ ساتھ حسینؑ کے جنگ کرو
بات سن کے امام حسینؑ والی
فوجوں نے جنگ کا طبل بجا دیا
میرے مولاؑ، علیؑ کے لال نے بھی
لوگوں نے نعرۂ تکبیر کا لگا دیا
حملہ کیا امامؑ پہ ظالموں نے
مولاؑ نے فوجوں کو آگے بھگا دیا
شیرِ علیؑ کا لڑا جنگ ایسی
شامی فوج کو کوفہ دکھلا دیا
ابنِ سعد یہ فوجوں کو کہتا تھا
رنگ جنگ کا اب بدلا دو
قریب آئے تو تلوار سے وار کرو
دور جائے تو تیر چلا دو
کرو قلم حسینؑ پہ کچھ ایسا
ساتوں عرشوں کو آج ہلا دو
ان میں بھی ہے خونِ علیؑ والا
اس کو مٹی میں آج ملا دو