نئے سال کے نام
میرا دل کرتا ہے
بے خیالی میں
تمہارے نمبر پر میسج کروں
اور پوچھوں —–
اب نئے سال کے آغاز کی پہلی دعا
تم کسے بھیجتے ہو؟
میں کہ جس کے حسن پر تم کتاب لکھ سکتے تھے
ایک بے نام غلط فہمی سے—–
اسے تم دوست بھی نہیں سمجھتے
اے دوست سچ بتاؤ
رات کے آدھے ادھورے سفر پر
جب تارے قدموں تلے کھسکنے لگتے ہیں
کس کی بازو میں ہاتھ ڈال کر
تم چاند پر جاتے ہو
وہ کون ہے جس کے کھانے پینے سے
جینے مرنے سے سونے جاگنے سے
تمہیں فرق پڑتا ہے
کس کا نمبر
اب تمہاری انگلیاں غلطی سے
ڈائل کرتی ہیں
تم کس کی خاموشی سننے کو
گھنٹوں منتظر رہتے ہو
کس کی بے خواب آنکھیں
رات میں پہلی کے تنہا چاند کی مانند
اکیلی اکیلی نظر آتی ہیں
تم کن نینوں کی چاہ میں
یہاں وہاں تاکتے پھرتے ہو
نئے کپڑے لا کر
کس کو دکھاتے ہو
زیرِ لب کس کے پیغام پڑھ کر
مسکراتے ہو
وہ کون ہے
جس کی خاطر تم سنورتے ہو
بال سنوارتے ہو
ہنستے ہو محفل کو گلزار بناتے ہو
مجھ سے کیے گئے وعدے
کس موڑ پر نبھاتے ہو
مجھ سے جو کرتے تھے باتیں ساری
وہ ذومعنی لفظ کسے سناتے ہو
مجھے یاد کرتے ہو
تو کس کو بتاتے ہو
نئے سال کی پہلا دعا کس کے نام لکھ کر
نیا سال مناتے ہو