نزاعِ معاشرت کا عالم
“اِس چیخ کو سنو، یہ آخری علامت ہے اِس دم توڑتے معاشرے کی۔ یہ آخری نشاں ہے اُس بے ضرر چنگاری کا جو اس معاشرے کے دل میں پنہاں ہے۔ اِس بانگ کا جواب دو کہ یہ آخری اعلان ہے مرگِ انسانیت کا۔ اس آہ و بکا کو سنو کہ اس کے بعد سکوت ہے، خاموشی ہے دائمی۔ وہ خاموشی جس میں کوئی انسان، انسان نہیں ہے۔ کوئی رشتہ، کوئی جذبہ نہیں ہے۔ صرف انحطاط ہے سکون کا، ارادوں کا، جذبوں کا، انسانوں کا۔ کہ مردہ معاشرے میں مٹی کا پتلا تو رہ سکتا ہے، انسان نہیں”
—ڈی اے