نظامِ حیات نہیں رکتا

اب کہ اگر تُو نے چھوڑ کے جانا ہے تو جا
اب کہ تیرے جانے سے میرا سانس نہیں رکتا
نہ دے مجھے یہ ڈراوے ہجر کے میری جاں
کہ اب تیرے جانے سے نظامِ حیات نہیں رکتا

← back