اور مجھ کو اس دن سے قیامت کے انتظار میں لگا دیا...
پرسوں رات کے پچھلے پہر
میں اس کی یاد میں گم سم تھا
صبح کے تین بجے تھے
میں تکیے پہ سر رکھے
اس کی سوچ میں ڈوبا ہوا تھا
کہ یکایک موبائل پر اس کا
نمبر لہرایا، اسکے نام کے ساتھ
اس کے زندگی کے جانے کے بعد بھی
اسکا نمبر نام کے ساتھ میرے دل میں
ثبت تھا، روزِ اول کی مانند روشن تھا
میں نے فون کو کان سے لگایا
اور بہت غصے سے فقط ہیلو کہہ پایا
اسکی طرف کچھ خاموشی تھی
پھر یکایک اک سسکی ابھری
اور میری دھڑکن رک گئی
میں ٹھٹھر سا گیا، گھبرا گیا
میں نے ٹوٹے ہوئے لہجے میں اسکا نام پکارا