اس کی آغوش میں سر رکھ کے سو لوں گا
اس کی آغوش میں سر رکھ کے سو لوں گا
اس کے گلے لگ کے دنیا کا ہر غم رو لوں گا
اس کے کمرے میں، اس کی تصویر کی محفل میں
مذہب, فلسفہ، نفسیات، سب اسباق میں کھولوں گا
دن کاٹا تو کیسے کاٹا، رات گزاری تو کیسی گزری
تیرے جانے کے بعد ، میں کس سے گھنٹوں بولوں گا