ناداں دنوں کی محبت بھی عجب ہے
ناداں دنوں کی محبت بھی عجب ہے
کہ فرقت میں پھلتی پھولتی ہے
یہ بند دلوں میں پروان چڑھتی ہے
اور عشق کی صورت اختیار کرتی ہے
کہ مینہ جب باہر برسنے لگتا ہے
تو من اندر تر ہو جاتا ہے
کہ یار کو دیکھ کے دن ہوتا ہے
اور یار سے ہی ہر اک سویرا ہے