عجب نیرنگِ کائنات ہے دنیا میں عیاں
عجب نیرنگِ کائنات ہے دنیا میں عیاں
مرنے والے بھی، مارنے والے بھی ہیں مسلماں
دونوں اطراف میں جاری جنگ ہے، زیر سایہِ قرآں
کہ سمجھتاہے ہر اک،کہ وہی ہے کاملِ ایماں
گردان ہے فتویِٰ کفر، جاریِ ہر زباں
کہ موجود ہیں اس اُمت میں فقط کافر یہاں
عجب ڈھنگ ہے، اس بےپر آہ و فغاں کا
کہ سوائے ہمارے، نہی کوئی اس جہاں میں مسلماں
اُس پہ یہ زورِبازو کی نسبت کہ لاؤ ایماں زوراں
بھلا دل بھی کبھی پھرے ہیں، بنا رضامندیِ باطناں
عجب کھیل رچا ہے، تیرے دین میں یزداں
تیرے محبوب نے فرمائی رحلت، کرتے جس دنیا کو مسلماں
ہم جو کرتے ہیں دعویٰ کہ ہیں مصطفیٰ کے غلاماں
عبث کرتے پھرتے ہیں اُن کو جوق درجوق شاملِ کفراں