رت جگا

اب کے کوئی پوچھے گا تو بتا دوں گا
شہر کیسے جلتا ہے ، عشق کیسے مرتا ہے
دن تو گزر ہی جاتے ہیں کیسے نہ کیسے مگر
ہائے جانِ جاں یہ رت جگا کیسے گزرتا ہے

← back