رو پڑے گا
اب کہ جو بھی سُنے گا کہانی ہماری، رو پڑے گا
وہ سُن کے سارے دکھ ہمارے، رو پڑے گا
روئے گا وہ ہمارے وصل کے لمحے کا سُن کر
وہ ہماری جدائی کا سُن کر بھی رو پڑے گا
وہ جو سُن لے گا ہمارے دل کی تڑپتی آہ و پکار
وہ پتھر دل بھی آخر اک دن رو پڑے گا
دوستو ابھی تو یہیں رہنے دو، ابھی نہ لے کے جاؤ
کہ دیکھ کے ہماری میت وہ بھی رو پڑے گا