سالگرہ کے نام

گزر گیا ہے اک اور سال بھی آج
مگر اب تک چین نہیں آیا مجھے

ڈھونڈنے کو بہت ڈھونڈا میں نے
جاناں تیرا اقرار نہ راس آیا مجھے

دے چکا ہے جو دردِ دل تُو مجھے
علاج اُس کا اب تک نہ سمجھ آیا مجھے

یہ سال بھی گزرے گا تیری یاد میں کہ
میری سالگرہ کی خوشی کا پیام نہ آیا مجھے

← back